7 اکتوبر 2011 - 20:30

حضرت امام علی رضا علیہ السلام ولادت باسعادت علماء ومورخین کابیان ہے کہ آپ بتاریخ گیارہ ذی قعدہ ایک سو ترپن ھ یوم پنجشنبہ بمقام مدینہ منورہ متولدہوئے ہیں.

ابنا:

حضرت امام علی رضا علیہ السلام ولادت باسعادتعلماء ومورخین کابیان ہے کہ آپ بتاریخ گیارہ  ذی قعدہ ایک سو ترپن ھ یوم پنجشنبہ بمقام مدینہ منورہ متولدہوئے ہیں .آپ کی ولادت کے متعلق علامہ مجلسی اورعلامہ محمدپارساتحریرفرماتے ہیں کہ جناب ام البنین کاکہناہے کہ جب تک امام علی رضا علیہ السلام میرے بطن میں رہے مجھے گل کی گرانباری مطلقا محسوس نہیں ہوئی،میں اکثرخواب میں تسبیح وتہلیل اورتمہیدکی آوازیں سناکرتی تھی جب امام رضا علیہ السلام پیداہوئے توآپ نے زمین پرتشریف لاتے ہی اپنے دونوں ہاتھ زمین پرٹیک دئے اوراپنا فرق مبارک آسمان کی طرف بلندکردیا آپ کے لبہائے مبارک جنبش کرنے لگے ،ایسامعلوم ہوتاتھاکہ جیسے آپ خداسے کچھ باتیں کررہے ہیں ، اسی اثناء میں امام موسی کاظم علیہ السلام تشریف لائے اورمجھ سے ارشادفرمایاکہ تمہیں خداوندعالم کی یہ عنایت وکرامت مبارک ہو،پھرمیں نے مولودمسعودکوآپ کی آغوش میں دیدیا آپ نے اس کے داہنے کان میں اذان اوربائیں کان میں اقامت کہی اس کے بعدآپ نے ارشادفرمایاکہ”بگیر این راکہ بقیہ خدااست درزمین حجت خداست بعدازمن“ اسے لے لویہ زمین پرخداکی نشانی ہے اورمیرے بعدحجت اللہ کے فرائض کاذمہ دار ہے ابن بابویہ فرماتے ہیں کہ آپ دیگرآئمہ علیہم السلام کی طرح مختون اورناف بریدہ متولدہوئے تھے(فصل الخطاب وجلاء العیون ص ۲۷۹) ۔ نام ،کنیت،القاب   آپ کے والدماجدحضرت امام موسی کاظم علیہ السلام نے لوح محفوظ کے مطابق اورتعیین رسول صلعم کے موافق آپ کو”اسم علی“ سے موسوم فرمایا،آپ آل محمد،میں کے تیسرے ”علی“ ہیں  ۔  آپ کی کنیت ابوالحسن تھی اورآپ کے القاب صابر،زکی،ولی،رضی،وصی تھے واشہرھاالرضاء اورمشہورترین لقب رضا تھا۔ لقب رضاکی توجیہ         علامہ طبرسی تحریرفرماتے ہیں کہ آپ کورضااس لیے کہتے ہیں کہ آسمان وزمین میں خداوعالم ،رسول اکرم اورآئمہ طاہرین،نیزتمام مخالفین وموافقین آپ سے راضی تھے (اعلام الوری ص ۱۸۲) علامہ مجلسی تحریرفرماتے ہیں کہ بزنطی نے حضرت امام محمدتقی علیہ السلام سے لوگوں کی افواہ کاحوالہ دیتے ہوئے کہاکہ آپ کے والدماجدکولقب رضاسے مامون رشیدنے ملقب کیاتھا آپ نے فرمایاہرگزنہیں یہ لقب خداورسول کی خوشنودی کاجلوہ بردارہے اورخاص بات یہ ہے کہ آپ سے موافق ومخالف دونوں راضی اورخوشنودتھے  ۔  آپ کی تربیت     آپ کی نشوونمااورتربیت اپنے والدبزرگوارحضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کے زیرسایہ ہوئی اوراسی مقدس ماحول میں بچپنااورجوانی کی متعددمنزلیں طے ہوئیں اور ۳۰ برس کی عمرپوری ہوئی اگرچہ آخری چندسال اس مدت کے وہ تھے جب امام موسی کاظم اعراق میں قیدظلم کی سختیاں برداشت کررہے تھے مگراس سے پہلے ۲۴ یا ۲۵ برس آپ کوبرابراپنے پدربزرگوارکے ساتھ رہنے کاموقع ملا۔بادشاہان وقت          آپ نے اپنی زندگی کی پہلی منزل سے تابہ عہدوفات بہت سے بادشاہوں کے دوردیکھے آپ ۱۵۳ ھ میں بہ عہدمنصوردوانقی متولدہوئے (تاریخ خمیس) ۱۵۸ ھ  میں مہدی عباسی ۱۶۹ ھ  میں ہادی عباسی  ۱۷۰ ھ میں ہارون رشیدعباسی ۱۹۴ ھئمیں امین عباسی ۱۹۸ ھئمامون رشید عباسی علی الترتیب خلیفہ وقت ہوتے رہے ۔           آپ نے ہرایک کادوربچشم خوددیکھااورآپ پدربزرگوارنیزدیگراولادعلی وفاطمہ کے ساتھ جوکچھ ہوتارہا،اسے آپ ملاحظہ فرماتے رہے یہاں تک کہ ۲۳۰ ھ میں آپ دنیاسے رخصت ہوگئے اورآپ کوزہردے کرشہیدکردیاگیا۔ جانشینی         آپ کے پدربزرگوارحضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کومعلوم تھا کہ حکومت وقت جس کی باگ ڈوراس وقت ہارون رشیدعباسی کے ہاتھوں میں تھی آپ کوآزادی کی سانس نہ لینے دے گی اورایسے حالات پیش آجائیں گے کہ آب کی عمرکے آخری حصہ میں اوردنیاکوچھوڑنے کے موقع پردوستان اہلبیت کاآپ سے ملنایابعدکے لیے راہنماکادریافت کرناغیرممکن ہوجائے گااس لیے آپ نے انہیں ازادی کے دنوں اورسکون کے اوقات میں جب کہ آپ مدینہ میں تھے پیروان اہلبیت کواپنے بعدہونے والے امام سے روشناس کرانے کی ضرورت محسوس فرمائی چنانچہ اولادعلی وفاطمہ میں سے سترہ آدمی جوممتازحیثیت رکھتے تھے انہیں جمع فرماکراپنے فرزندحضرت علی رضاعلیہ السلام کی وصایت اورجانشینی کااعلان فرمادیا اورایک وصیت نامہ تحریرابھی مکمل فرمایا جس پرمدینہ کے معززین میں سے ساٹھ آدمیوں کی گواہی لکھی گئی یہ اہتمام دوسرے آئمہ  کے یہاں نظرنہیں آیا صرف ان خصوصی حالات کی بناء پرجن سے دوسرے آئمہ اپنی وفات کے موقعہ پردوچارنہیں ہونے والے تھے۔امام موسی کاظم کی وفات اورامام رضاکے دورامامت کاآغاز  ۱۸۳ ھ میں حضرت اما م موسی کاظم علیہ السلام نے قیدخانہ ہارون رشیدمیں اپنی عمرکاایک بہت بڑاحصہ گذارکردرجہ شہادت حاصل فرمایا، آپ کی وفات کے وقت امام رضاعلیہ السلام کی عمرمیری تحقیق کے مطابق تیس سال کی تھی والدبزرگوارکی شہادت کے بعدامامت کی ذمہ داریاں آپ کی طرف منتقل ہوگئیں یہ وہ وقت تھا جب کہ بغدادمیں ہارون رشیدتخت خلافت پرمتمکن تھا اوربنی فاطمہ کے لیے حالات بہت ہی ناسازگارتھے۔ ہارونی فوج اورخانہ امام رضاعلیہ السلام         حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کے بعد دس برس ہارون رشیدکادوررہایقینا وہ امام رضاعلیہ السلام کے وجودکوبھی دنیامیں اسی طرح برداشت نہیں کرسکتاتھا جس طرح اس کے پہلے آپ کے والدماجدکارہنااس نے گوارانہیں کیامگریاتوامام موسی کاظم علیہ السلام کے ساتھ جو طویل مدت تک تشدداورظلم ہوتارہا اورجس کے نتیجہ میں قیدخانہ ہی کے اندرآپ دنیاسے رخصت ہوگئے اس سے حکومت وقت کی عام بدنامی ہوگئی تھی اوریاواقعی ظالم کو بدسلوکیوں کااحساس اورضمیرکی طرف سے ملامت کی کیفیت تھی جس کی وجہ سے کھلم کھلاامام رضاکے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی تھی لیکن وقت سے پہلے اس نے امام رضاعلیہ السلام کوستانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیاحضرت کے عہدہ امامت کوسنبھالتے ہی ہارون رشیدنے آپ کاگھرلٹوادیا،اورعورتوں کے زیوارت اورکپڑے تک اتروالیے تھے۔         

تاریخ اسلام میں ہے کہ ہارون رشیدنے اس حوالہ اوربہانے سے کہ محمدبن جعفرصادق علیہ السلام نے اس کی حکومت وخلافت سے انکارکردیاہے ایک عظیم فوج عیسی جلودی کی ماتحتی میں مدینہ منورہ بھیج کرحکم دیاکہ علی و فاطمہ کی تمام اولادکی بالکل ہی تباہ وبربادکردیاجائے ان کے گھروں میں آگ لگادی جائے ان کے سامان لوٹ لیے جائیں اورانہیں اس درجہ مفلوج اورمفلوک کردیاجائے کہ پھران میں کسی قسم کے حوصلہ کے ابھرنے کاسوال ہی پیدانہ ہوسکے اورمحمدبن جعفرصادق کوگرفتارکرکے قتل کردیاجائے، عیسی جلودی نے مدینہ پہنچ کرتعمیل حکم کی سعی بلیغ کی اورہرممکن طریقہ سے بنی فاطمہ کوتباہ وبربادکیا، حضرت محمدبن جعفرصادق علیہ السلام نے بھرپورمقابلہ کیا لیکن آخرمیں گرفتار ہوکرہارون رشیدکے پاس پہنچادیئے گئے۔         عیسی جلودی سادات کرام کولوٹ کرحضرت امام علی رضاعلیہ السلام کے دولت کدہ پرپہنچااوراس نے خواہش کی کہ وہ حسب حکم ہارون رشید،خانہ امام میں داخل ہوکراپنے ساتھیوں سے عورتوں کے زیورات اورکپڑے اتارے ،امام علیہ السلام نے فرمایایہ نہیں ہوسکتا،میں خودتمہیں ساراسامان لاکردئے دیتاہوں پہلے تووہ اس پرراضی نہ ہوالیکن بعدمیں کہنے لگاکہ اچھاآپ ہی اتارلائیے آپ محل سرامیں تشریف لے گئے اورآپ نے تمام زیورات اورسارے کپڑے ایک سترپوش چادرکے علاوہ لاکردیدیااوراسی کے ساتھ ساتھ اثاث البیت نقدوجنس یہاں تک کہ بچوں کے کان کے بندے سب کچھ اس کے حوالہ کردیاوہ ملعون تمام سامان لے کر بغدادروانہ ہوگیا،یہ واقعہ آپ کے آغازامامت کاہے۔      علامہ مجلسی بحارالانوارمیں لکھتے ہین کہ محمدبن جعفرصادق کے واقعہ سے امام علی رضا علیہ السلام کاکوئی تعلق نہ تھا وہ اکثراپنے چچامحمدکو خاموشی کی ہدایت اورصبرکی تلقین فرمایاکرتے تھے ابوالفرج اصفہانی مقاتل الطالبین میں لکھتے ہیں کہ محمدبن جعفرنہایت متقی اورپرہیزگارشخص تھے کسی ناصبی نے دستی کتبہ لکھ کر مدینہ کی دیواروں پرچسپاں کردیاتھا جس میں حضرت علی وفاطمہ کے متعلق ناسزاالفاظ تھے یہی آپ کے خروج کاسبب بنا۔      آپ کی بیعت لفظ امیرالمومنین سے کی گئی آپ جب نمازکونکلتے تھے توآپ کے ساتھ دوسوصلحاواتقیاہواکرتے تھے علامہ شبلنجی لکھتے ہیں کہ امام موسی کاظم علیہ السلام کی وفات کے بعدصفوان بن یحی نے حضرت امام علی رضاعلیہ السلام سے کہاکہ مولاہم آپ کے بارے میں ہارون رشیدسے بہت خائف ہیں ہمیں ڈرہے کہ یہ کہیں آپ کے ساتھ وہی سلوک نہ کرے جوآپ کے والدکے ساتھ کرچکاہے حضرت نے ارشادفرمایاکہ یہ تواپنی سعی کرے گالیکن مجھ پرکامیاب نہ ہوسکے گاچنانچہ ایساہی ہوااورحالات نے اسے کچھ اس اس درجہ آخرمیں مجبورکردیاتھا کہ وہ کچھ بھی نہ کرسکایہاں تک کہ جب خالدبن یحی برمکی نے اس سے کہاکہ امام رضااپنے باپ کی طرح امرامامت کااعلان کرتے اوراپنے کوامام زمانہ کہتے ہیں تواس نے جواب دیاکہ ہم جوان کے ساتھ کرچکے ہیں وہی ہمارے لیے کافی ہے اب توچاہتاہے کہ ”ان نقتلہم جمیعا“ ہم سب کے سب کوقتل کرڈالیں،اب میں ایسانہیں کروں گا(نورالابصارص ۱۴۴ طبع مصر)۔         علامہ علی نقی لکھتے ہیں کہ پھربھی ہارون رشیدکااہلبیت رسول سے شدیداختلاف اورسادات کے ساتھ جوبرتاؤاب تک رہاتھا اس کی بناء پرعام طورسے عمال حکومت یاعام افرادبھی جنہیں حکومت کوراضی رکھنے کی خواہش تھی اہلبیت کے ساتھ کوئی اچھارویہ رکھنے پرتیارنہیں ہوسکتے تھے اورنہ امام کے پاس آزادی کے ساتھ لوگ استفادہ کے لیے آسکتے تھے نہ حضرت کوسچے اسلامی احکام کی اشاعت کے مواقع حاصل تھے۔     ہارون کاآخری زمانہ اپنے دونوں بیٹوں،امین اورمامون کی باہمی رقابتوں سے بہت بے لطفی میںگزرا،امین پہلی بیوی سے تھا جوخاندان شاہی سے منصوردوانقی کی پوتی تھی اوراس لیے عرب سردارسب اس کے طرف دارتھے اورمامون ایک عجمی کنیزکے پیٹ سے تھااس لیے دربارکاعجمی طبقہ اس سے محبت رکھتاتھا ،دونوں کی آپس کی رسہ کشی ہارون کے لیے سوہان روح بنی ہوئی تھی اس نے اپنے خیال میں اس کاتصفیہ مملکت کی تقسیم کے ساتھ یوں کردیاکہ دارالسلطنت بغداداوراس کے چاروں طرف کے عربی حصہ جسے شام،مصرحجاز،یمن، وغیرہ محمدامین کے نام کئے اورمشرقی ممالک جیسے ایران،خراسان، ترکستان، وغیرہ مامون کے لیے مقررکئے مگریہ تصفیہ تواس وقت کارگرہوسکتاتھا جب جودونوں فریق ”جیواورجینے دو“ کے اصول پرعمل کرتے ہوتے لیکن جہاں اقتدارکی ہوس کارفرماہو، وہاں بنی عباس میں ایک گھرکے اندردوبھائی اگرایک دوسرے کے مدمقابل ہوں توکیوں نہ ایک دوسرے کے خلاف جارحانہ کاروائی کرنے پرتیارنظرآئے اورکیوں نہ ان طاقتوں میں باہمی تصادم ہوجب کہ ان میں سے کوئی اس ہمدردی اورایثاراورخلق خداکی خیرخواہی کابھی حامل نہیں ہے جسے بنی فاطمہ اپنے پیش نظررکھ کراپنے واقعی حقوق سے چشم پوشی کرلیاکرتے تھے اسی کانتیجہ تھا کہ ادھرہارون کی آنکھ بندہوئی اورادھربھائیوں میں خانہ جنگیوں کے شعلے بھڑک اٹھے آخرچاربرس کی مسلسل کشم